امریکا میں 2025 کے آخری مکمل ہفتے کے دوران بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواستیں ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں، تاہم مجموعی طور پر لیبر مارکیٹ کمزوری کا شکار ہے۔
امریکی لیبر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق 27 دسمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں بے روزگاری دعوے 16 ہزار سے کم ہو کر 1 لاکھ 99 ہزار رہ گئے، جو پچھلے ہفتے 2 لاکھ 15 ہزار تھے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سال کے اختتامی تعطیلات، خصوصاً کرسمس کے باعث مختصر ورک ویک نے ان اعداد و شمار کو متاثر کیا۔ کیونکہ اس دوران دعوے جمع کرانے کے مواقع کم ہوتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق نومبر میں امریکا میں بے روزگاری کی شرح 4.6 فیصد تک جا پہنچی، جو 2021 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں وفاقی اداروں میں عملے کی کٹوتیوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ملازمین کا روزگار سے چھوڑنا بتایا جا رہا ہے۔حالیہ مہینوں میں نئی ملازمتوں کے مواقعوں کی رفتار بھی سست رہی ہے، جبکہ فیڈرل ریزرو نے لیبر مارکیٹ کی کمزوری کے خدشے کے پیش نظر شرح سود میں مسلسل تیسری بار کمی کی ہے۔ یو پی ایس، جنرل موٹرز، ایمیزون اور ویریزون سمیت کئی بڑی کمپنیوں کی جانب سے ملازمتوں میں کمی کے اعلانات نے بھی روزگار کی صورتحال پر دباؤ بڑھایا ہے۔