امارات کا عام پاکستانیوں کو ویزا جاری کرنے سے انکار
متحدہ عرب امارات نے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا پالیسی مزید سخت کر دی ہے اور عام پاکستانیوں کے لیے تقریباً تمام اقسام کے ویزے روک دیے ہیں۔
نئی پابندیوں کے تحت صرف سفارتی پاسپورٹ اور حکومتی ’’بلو پاسپورٹ‘‘ رکھنے والوں کو ہی ویزا کی اجازت دی جا رہی ہے، جب کہ گرین پاسپورٹ رکھنے والے عام شہریوں کی درخواستیں بڑی حد تک مسترد ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال سے وہ لاکھوں پاکستانی متاثر ہو رہے ہیں جو سیاحت، فیملی وزٹ یا روزگار کی غرض سے یو اے ای کا سفر کرنا چاہتے ہیں۔حکام کے مطابق یہ فیصلہ ان واقعات کے بعد سامنے آیا جن میں کچھ پاکستانی شہریوں کی جانب سے ویزٹ ویزے کا غلط استعمال کیا گیا، اور ان پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات لگے۔ اس نوعیت کی شکایات سعودی عرب میں بھی سامنے آ چکی ہیں، جہاں ایسے افراد کو ملک بدر کیا گیا تھا۔ پاکستانی حکام نے یو اے ای کے ساتھ سفارتی سطح پر رابطے کیے ہیں، تاہم اماراتی پالیسی فی الحال سخت ہے۔رپورٹس کے مطابق گرین پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا جاری ہونا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے اور گزشتہ چند ماہ میں صرف نہایت محدود تعداد میں درخواستیں ’’بڑی مشکل‘‘ کے بعد منظور ہوئیں۔ اس کے برعکس، سفارتی اور بلو پاسپورٹ ہولڈرز کو سہولت دینے کے لیے امارات نے ویزا پراسیسنگ مزید تیز بنا دی ہے، جس میں آن لائن درخواستیں، ای ویزا بغیر پاسپورٹ اسٹیمپ کے اجراء، اور یو اے ای ویزا سینٹر پاکستان میں روزانہ 500 سے زائد درخواستوں کی ڈیجیٹل اسکریننگ شامل ہے۔رواں سال کے آغاز میں یو اے ای نے پاکستانی شہریوں کے لیے پانچ سالہ ملٹیپل انٹری ٹورسٹ ویزا کا اعلان کیا تھا، لیکن موجودہ سخت پالیسی نے عام مسافروں کے لیے یہ سہولت مؤثر طور پر غیر فعال کر دی ہے۔ ورک ویزے زیادہ متاثر نہیں ہوئے، مگر عام شہریوں کے لیے وزٹ یا ٹورسٹ ویزا حاصل کرنا مسلسل مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں پاکستان کے سماجی و معاشی ماحول پر اثر انداز ہو رہی ہیں، خصوصاً ان خاندانوں اور کاروباروں پر جن کا انحصار خلیجی ممالک کے سفر پر ہوتا ہے۔ صورتحال اس ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ دونوں ممالک سفارتی سطح پر مسلسل بات چیت کے ذریعے ایسے اقدامات کریں جو قانونی سفر کو ممکن بناتے ہوئے غیر قانونی سرگرمیوں پر قابو بھی رکھ سکیں۔